ناقابل یقین وادی
The seven ages of woman - Hans Baldung (1544) Museum der bildenden Künste گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں ہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاں لہولہان انگلیاں ہیں اور چپ کھڑی ہوں میں گل و سمن کی بے پناہ چاہتوں کے درمیاں ہتھیلیوں کی اوٹ ہی چراغ لے چلوں ابھی ابھی سحر کا ذکر ہے روایتوں کے درمیاں جو دل میں تھی نگاہ سی نگاہ میں کرن سی تھی وہ داستاں الجھ گئی وضاحتوں کے درمیاں صحیفۂ حیات میں جہاں جہاں لکھی گئی لکھی گئی حدیث جاں جراحتوں کے درمیاں کوئی نگر کوئی گلی شجر کی چھاؤں ہی سہی یہ زندگی نہ کٹ سکے مسافتوں کے درمیاں اب اس کے خال و خد کا رنگ مجھ سے پوچھنا عبث نگہ جھپک جھپک گئی ارادتوں کے درمیاں صبا کا ہاتھ تھام کر اداؔ نہ چل سکوگی تم تمام عمر خواب خواب ساعتوں کے درمیاں گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں ہونٹوں پہ کبھی ان کے مِرا نام ہی آئے آئے تو سہی، بر سرِ الزام ہی آئے حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگیر ہیں غنچے خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے لمحاتِ مُسَرّت ہیں تصور سے گریزاں یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے تاروں سے سجا لیں گے رہِ شہرِ تمَنّا مقدور نہیں صُبح...